ہمدردی کی ذرا بھی ضرورت نہیں مجھے
احساں کوئی اٹھانے کی عادت نہیں مجھے
ہاں، لالچی ہوں اور زیادہ کی ہے ہوس
اتنے قلیل پر تو قناعت نہیں مجھے
درکار تھی جو چیز وہ ناپید ہو چکی
وافر وہی ہے جس کی ضرورت نہیں مجھے
وہ بات بس عمومی رویوں کے بارے تھی
تم سے وگرنہ کوئی شکایت نہیں مجھے
تم ہوتے ہو تو لگتا ہے سب کچھ بھرا بھرا
جیسے کسی بھی چیز کی قلت نہیں مجھے
آرام ہی میں اتنا میں مشغول ہوں کہ بس
ایسے فضول کاموں کی فرصت نہیں مجھے
اندر تو خیر دُور کہ فی الحال اِدھر کہیں
باہر بھی بیٹھنے کی اجازت نہیں مجھے
ہر کام کرتا ہوں بڑے آرام سے میں گل
اور اس معاملے میں تو عجلت نہیں مجھے
گل فراز
No comments:
Post a Comment