Sunday, 6 December 2015

چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو

چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو
اپنے سینے پر سنبھالا میں نے بوجھل رات کو
رات بھر چھایا رہا گھر کی فضا پر اک ہراس
دستکیں دیتا تھا در پر کوئی پاگل رات کو
چاندنی میں گھُل گیا جب دل کی مایوسی کا زہر
میں نے خود کفنا دیا سایوں میں کومل رات کو
کرب کے لاوے ابلتے تھے سکوں کے آس پاس
اف وہ نیندیں، وہ گراں خوابی کی دلدل رات کو
آج پھر دھندلا گئی اخترؔ مری شامِ فراق
سوچتا ہوں، آج برسیں گے بادل رات کو

اختر امام رضوی

No comments:

Post a Comment