چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو
اپنے سینے پر سنبھالا میں نے بوجھل رات کو
رات بھر چھایا رہا گھر کی فضا پر اک ہراس
دستکیں دیتا تھا در پر کوئی پاگل رات کو
چاندنی میں گھُل گیا جب دل کی مایوسی کا زہر
کرب کے لاوے ابلتے تھے سکوں کے آس پاس
اف وہ نیندیں، وہ گراں خوابی کی دلدل رات کو
آج پھر دھندلا گئی اخترؔ مری شامِ فراق
سوچتا ہوں، آج برسیں گے بادل رات کو
اختر امام رضوی
No comments:
Post a Comment