اشک جب دیدۂ تر سے نکلا
ایک کانٹا سا جگر سے نکلا
پھر نہ میں رات گئے تک لوٹا
ڈوبتی شام جو گھر سے نکلا
ایک میت کی طرح لگتا تھا
مجھ کو منزل بھی نہ پہچان سکی
میں کہ جب گردِ سفر سے نکلا
ہائے دنیا نے اسے اشک کہا
خون جو زخمِ نظر سے نکلا
اک اماوس کا نصیبا ہوں میں
آج یہ چاند کدھر سے نکلا
جب اڑا جانبِ منزل اخترؔ
ایک شعلہ مِرے پر سے نکلا
اختر امام رضوی
No comments:
Post a Comment