وہ خود تو مر ہی گیا تھا مجھے بھی مار گیا
وہ اپنے روگ مِری روح میں اتار گیا
سمندروں کی یہ شورش اسی کا ماتم ہے
جو خود تو ڈوب گیا، موج کو ابھار گیا
ہوا کی زخم کھلے تھے اداس چہرے پر
اندھیری رات کی پرچھائیوں میں ڈوب گیا
سحر کی کھوج میں جو بھی افق کے پار گیا
وہ روشنے کا مسافر میں تیرگی کا دھواں
تو پھر بھلا وہ مجھے کس لیے پکار گیا
میں اپنے سوچ کے ہمزاد کا پجاری تھا
تِرا جلال مِری عاقبت سنوار گیا
اختر امام رضوی
No comments:
Post a Comment