ہر بت یہاں ٹوٹے ہوئے پتھر کی طرح ہے
یہ شہر تو اجڑے ہوئے منظر کی طرح ہے
میں تشنۂ دیدار کہ جھونکا ہوں ہوا کا
وہ جھیل میں اترے ہوئے منظر کی طرح ہے
کم ظرف زمانے کی حقارت کا گِلہ کیا
اس چرخ کی تقدیس کبھی رات کو دیکھو
یہ قبر پہ پھیلی ہوئی چادر کی طرح ہے
میں سنگِ تہِ آب کی صورت ہوں جہاں میں
اور وقت بھی سوئے ہوئے ساگر کی طرح ہے
روتے ہیں بگولے مِرے دامن سے لِپٹ کر
صحرا بھی طبیعت میں مِرے گھر کی طرح ہے
اشعار مِرے درد کی خیرات ہیں اخترؔ
اک شخص یہ کہتا تھا کہ غم زر کی طرح ہے
اختر امام رضوی
No comments:
Post a Comment