Tuesday, 8 December 2015

ہر بت یہاں ٹوٹے ہوئے پتھر کی طرح ہے

ہر بت یہاں ٹوٹے ہوئے پتھر کی طرح ہے
یہ شہر تو اجڑے ہوئے منظر کی طرح ہے
میں تشنۂ دیدار کہ جھونکا ہوں ہوا کا
وہ جھیل میں اترے ہوئے منظر کی طرح ہے
کم ظرف زمانے کی حقارت کا گِلہ کیا
میں خوش ہوں، مِرا پیار سمندر کی طرح ہے
اس چرخ کی تقدیس کبھی رات کو دیکھو
یہ قبر پہ پھیلی ہوئی چادر کی طرح ہے
میں سنگِ تہِ آب کی صورت ہوں جہاں میں
اور وقت بھی سوئے ہوئے ساگر کی طرح ہے
روتے ہیں بگولے مِرے دامن سے لِپٹ کر
صحرا بھی طبیعت میں مِرے گھر کی طرح ہے
اشعار مِرے درد کی خیرات ہیں اخترؔ
اک شخص یہ کہتا تھا کہ غم زر کی طرح ہے

اختر امام رضوی

No comments:

Post a Comment