Tuesday, 8 December 2015

کب کوئی فریاد گزاری اور کب آہ و زاری کی

کب کوئی فریاد گزاری اور کب آہ و زاری کی 
ہنس کر طے کر لی ہے میں نے ہر منزل دشواری کی
میں نے سوگ بڑھایا، کہنہ رسموں سے غداری کی 
ورنہ اہلِ درد میں پختہ رِیت ہے ماتم داری کی
دن بھر اس کی یاد کا شربت پینے سے پرہیز کیا 
شام ڈھلے تک روزہ رکھا، رات گئے افطاری کی
بیٹھے بیٹھے رو پڑتا ہوں، چلتے پھرتے ہنستا ہوں 
بچپن سے تہمت ہے مجھ پر فطری ناہمواری کی
میں اوروں سے بڑھ کر اہلِ دل میں یوں مقبول ہوا 
میں نے سیدھی بات سنائی، اوروں نے فنکاری کی
کل یاروں کی محفل میں جب جیون بھید کی بات چلی 
یاروں نے سو قصے چھیڑے ،میں نے بات تمہاری کی

افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment