عارفانہ کلام، نعتیہ کلام
شاہِ طیبہؐ کا ثنا گر ہے زمانہ سارا
محوِ توصیفِ پیمبرؐ ہے زمانہ سارا
بے تجلی نہیں اس نور سے لمحہ کوئی
اسمِ احمدﷺ سے منور ہے زمانہ سارا
کیا حسیں پھول کھلا شاخِ بنی ہاشم پر
جس کی خوشبو سے معطر ہے زمانہ سارا
کس طرح اس نے زمانے کو بدل ڈالاتھا
اس زمانے پہ تو ششدر ہے زمانہ سارا
وہی آقاؐ، وہی سرورؐ ہے زمانے بھر کا
اسی مخدوم کا چاکر ہے زمانہ سارا
کیا ابد گیر ہے رُت اس کی محبت والی
جس کے لمحے سے بھی کمتر ہے زمانہ سارا
ذاتِ پاک اس کی ہے انور! وہ محیطِ اعظم
جس کی پہنائی کے اندر ہے زمانہ سارا
انور مسعود
No comments:
Post a Comment