موت سے یونہی سدا پیار کیا ہے میں نے
سجدۂ شکر سرِ دار کیا ہے میں نے
عہدِ افرنگ میں جذبۂ بیدار کے ساتھ
گنگ لمحوں کو بھی احرار کیا ہے میں نے
دین کی صف میں گھُسے تھے جو لٹیرے کب سے
ان کو رُسوا سرِ بازار کیا ہے میں نے
ظلم کی چکی میں پستے ہوئے انسانوں کو
کبھی خنجر، کبھی تلوار کیا ہے میں نے
شوخئ نقشِ قدم سے ہی اُجالا لے کر
راہِ ویراں کو چمن زار کیا ہے میں نے
ظُلمتِ شب میں کیا شعلۂ آواز بلند
کِشتِ شب کو ثمر بار کیا ہے میں نے
میں ہوں خالد، میری بات قلندر جیسی
شبِ تیرہ کو شرر بار کیا ہے میں نے
خالد شبیر احمد
No comments:
Post a Comment