پلکوں پہ بھلا کب یہ ٹھہرنے کے لیے تھے
موتی مِری آنکھوں کے بکھرنے کے لیے تھے
چمکے نہ کسی طور بھی زندہ رہے جب تک
ہم خاک میں مل کر ہی نکھرنے کے لیے تھے
اچھا ہے کہ اب صاف ہی کہہ دیجیے صاحب
وعدے جو کئے تھے وہ مُکرنے کے لیے تھے
ہم آج تِری راہ میں کام آ گئے آخر
زندہ ہی تِرے نام پہ مرنے کے لیے تھے
اچھا نہیں لگتا تھا تِرے ہجر میں جینا
ہم لوٹ گئے تھے تو بکھرنے کے لیے تھے
ہم لوگ سزا وار نہ تھے وادئ گُل کے
کانٹوں بھری راہوں سے گزرنے کے لئیے تھے
احباب بھی دشمن نظر آتے ہیں نظیر آج
چہروں پہ لگے چہرے اترنے کے لیے تھے
نظیر میرٹھی
No comments:
Post a Comment