افسردہ دل بلبل پھولوں پہ خزاں چھائی
اللہ، گُلستاں میں یہ کیسی بہار آئی؟
یوں آتی ہیں کانوں میں بھولی ہوئی آوازیں
جیسے کسی وادی میں بجتی ہوئی شہنائی
ہم رنج اسیری میں محسوس نہ کر پائے
کب موسمِ گُل بیتا، کب فصلِ بہار آئی
کل جس نے مجھے اپنا دیوانہ بنایا تھا
اب میری تباہی پر وہ بھی ہے تماشائی
کہنا تو بہت چاہا حالِ غمِ دل، لیکن
کچھ کہنے نہیں دیتا اندیشۂ رُسوائی
مستی میں کبھی تم نے جو زُلفِ سیہ کھولی
ساون کی گھٹاؤں کو آنے لگی انگڑائی
شہروں کی طرف رُخ بھی بھولے سے نہیں کرتے
صحرا کی فضا شاید دیوانوں کو راس آئی
اے آہ!! ذرا سوچو، نادان ہو تم کتنے
اک بُھولنے والے کے اب تک ہو تماشائی
آہ سنبھلی
No comments:
Post a Comment