کون سوچے گا
بچھڑتے وقت سوچا تھا
بچھڑ کر مل بھی جاتے ہیں
کہ ہم سب ہی سفر میں ہیں
سفر میں زندگی کے
موڑ اک ایسا بھی آئے گا
جہاں پر چند ساعت کو
نگاہیں چار تو ہوں گی
ٹھٹک کر دیکھ تو لیں گے
میں قرنوں کی مسافت میں
ہر اک رستے میں
ہر اک موڑ پر گاڑ آئی تھی آنکھیں
تو وہ ساعت بشارت کی
ہجومِ حادثاتِ زندگی کے بوجھ سے دب کر
کبھی کی مر چکی ہو، مٹ چکی ہو
اور احمق دیدہ و دل منتظر ہیں
میں آنسو پینے لگی ہوں
میں اس نامہرباں ساعت کو اب رونے لگی ہوں
جو آ کر بھی نہیں آئی
تو پھر اب کون سوچے گا؟
غلط کیا ہے؟
صحیح کیا ہے؟
حمیدہ معین رضوی
No comments:
Post a Comment