Friday, 16 September 2022

بچھڑتے وقت سوچا تھا بچھڑ کر مل بھی جاتے ہیں

 کون سوچے گا


بچھڑتے وقت سوچا تھا

بچھڑ کر مل بھی جاتے ہیں

کہ ہم سب ہی سفر میں ہیں

سفر میں زندگی کے

موڑ اک ایسا بھی آئے گا

جہاں پر چند ساعت کو 

نگاہیں چار تو ہوں گی

ٹھٹک کر دیکھ تو لیں گے

میں قرنوں کی مسافت میں

ہر اک رستے میں

ہر اک موڑ پر گاڑ آئی تھی آنکھیں

تو وہ ساعت بشارت کی

ہجومِ حادثاتِ زندگی کے بوجھ سے دب کر

کبھی کی مر چکی ہو، مٹ چکی ہو

اور احمق دیدہ و دل منتظر ہیں

میں آنسو پینے لگی ہوں

میں اس نامہرباں ساعت کو اب رونے لگی ہوں

جو آ کر بھی نہیں آئی

تو پھر اب کون سوچے گا؟

غلط کیا ہے؟

صحیح کیا ہے؟


حمیدہ معین رضوی

No comments:

Post a Comment