Friday, 16 September 2022

ہوں میسر مدینے کی گلیاں اگر آنکھ کافی نہیں ہے نظر چاہیے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سوزِ دل چاہیے، چشمِ نم چاہیے اور شوقِ طلب معتبر چاہیے

ہوں میسر مدینے کی گلیاں اگر، آنکھ کافی نہیں ہے نظر چاہیے

انؐ کی محفل کے آداب کچھ اور ہیں، لب کشائی کی جرأت مناسب نہیں

انﷺ کی سرکار میں التجا کے لیے، جُنبشِ لب نہیں، چشمِ تر چاہیے

اپنی رُودادِ غم میں سناؤں کسے، میرے دکھ کو کوئی اور سمجھے گا کیا

جس کی خاکِ قدم بھی ہے خاکِ شفا، میرے زخموں کو وہ چارہ گر چاہیے

رونقیں زندگی کی بہت دیکھ لیں، اب میں آنکھوں کو اپنی کروں گا بھی کیا

اب نہ کچھ دیدنی ہے، نہ کچھ گفتنی، مجھ کو آقاﷺ کی بس اک نظر چاہیے

میں گدائے درِ شاہِ کونینﷺ ہوں، شیش محلوں کی مجھ کو تمنا نہیں

ہو میسر زمیں پہ کہ زیرِ زمیں، مجھ کو طیبہ میں اک اپنا گھر چاہیے

ان نئے راستوں کی نئی روشنی، ہم کو راس آئی ہے اور نہ راس آئے گی

ہم کو کھوئی ہوئی روشنی چاہیے، ہم کو آئیںِ خیر البشرﷺ چاہیے

گوشہ گوشہ مدینےکا پُر نُور ہے، سارا ماحول جلوؤں سے معمور ہے

شرط یہ ہے کہ ظرفِ نظر چاہیے، دیکھنے کو کوئی دیدہ ور چاہیے

مدحتِ شاہِ کون و مکاںﷺ کے لیے صرف لفظ و بیاں کا سہارہ نہ لو

فنِ شعری ہے اقبال اپنی جگہ، نعتﷺ کہنے کو خونِ جگر چاہیے


اقبال عظیم

No comments:

Post a Comment