Friday, 16 September 2022

فصیل شہر پہ تنہا کھڑا ہوں

 فصیلِ شہر پہ تنہا کھڑا ہوں 

عدو کے لشکروں کو تک رہا ہوں

شہر سویا ہوا ہے دن دیہاڑے

قیامت کی علامت دیکھتا ہوں

کسی بھی گھر کو دروازہ نہیں ہے

میں کیسے شہر میں پیدا ہوا ہوں

ہر اک دہلیز پہ خوں کا نشاں ہے

میں اپنے قاتلوں کو ڈھونڈتا ہوں 

سَوا نیزے پہ سورج آ گیا ہے 

میں جلتی ریت پہ سویا ہوا ہوں

مجھے آواز دے کر کیا کرو گی

تمہارے شہر سے میں جا چکا ہوں

جہاں پہ اعتزاز احسن رُکا تھا

میں اب تک اس جگہ بیٹھا ہوا ہوں


اعتزاز احسن 

No comments:

Post a Comment