ذرا سی بُھول بھٹک سے نیچے گِرا ہے
یہ انسان فلک سے نیچے گرا ہے
ہر رنگ کا پہلو نمایاں ہے اس میں
ایک پُر رنگ دھنک سے نیچے گرا ہے
روشنیوں سے بہت پیار ہے اس کو مگر
طور پر پڑی ایک چمک سے نیچے گرا ہے
تجھ سے تو بلند ہی تھا مقام اس دل کا
تیری پازیب کی کھنک سے نیچے گرا ہے
شہزاد ڈوگر
No comments:
Post a Comment