ہم خواب اور سچائی
ہم رات کے آنچل سے گرے ستارے
جمع کرنے ان ساحلوں پر جا نکلتے ہیں
جہاں کوئی نہیں آتا
نرم ہوا
لہروں کا شور
پاؤں تلےگیلی ریت
سر پر تنا نیلا آسمان
دور پانی میں ڈبکی لگا کر اوپر اٹھتے
سفید سمندری پرندے
ان کی تیز آوازیں
زندگی کی گواہی ہیں
جھک کر ستارے اور سیپیاں جمع کرتے ہاتھ
مانوس منظر سے اکتائی آنکھ
جانتے ہیں
منظر میں نئے رنگ بھرنے کے لیے روز
روح کا ایک ٹکڑا
وقت معبد کی بھینٹ کرنا ہوتا ہے
تصویر مکمل ہونے تک
ہم مر چکے ہوتے ہیں
مگر افق پرجیسے ہی سیاہ دھاری
سفید دھاری سے الگ ہوتی ہے
پیر ان ساحلوں کی جانب ہمکنے لگتے ہیں
جہاں کوئی نہیں آتا
شاہین کاظمی
No comments:
Post a Comment