Tuesday, 2 August 2022

ہم رات کے آنچل سے گرے ستارے

 ہم خواب اور سچائی


ہم رات کے آنچل سے گرے ستارے 

جمع کرنے ان ساحلوں پر جا نکلتے ہیں

جہاں کوئی نہیں آتا

نرم ہوا

لہروں کا شور 

پاؤں تلےگیلی ریت

سر پر تنا نیلا آسمان

دور پانی میں ڈبکی لگا کر اوپر اٹھتے

سفید سمندری پرندے

ان کی تیز آوازیں 

زندگی کی گواہی ہیں

جھک کر ستارے اور سیپیاں جمع کرتے ہاتھ

مانوس منظر سے اکتائی آنکھ

جانتے ہیں

منظر میں نئے رنگ بھرنے کے لیے روز

روح کا ایک ٹکڑا 

وقت معبد کی بھینٹ کرنا ہوتا ہے

تصویر مکمل ہونے تک

ہم مر چکے ہوتے ہیں

مگر افق پرجیسے ہی سیاہ دھاری 

سفید دھاری سے الگ ہوتی ہے

پیر ان ساحلوں کی جانب ہمکنے لگتے ہیں 

جہاں کوئی نہیں آتا


شاہین کاظمی

No comments:

Post a Comment