Tuesday, 2 August 2022

مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے

 مرنے والوں کے اشارے جو بتا کر گئے تھے

لفظ تاریخ کے پہلے ہی صدا کر گئے تھے

اس نے جو بام پہ آ جانے کی زحمت کی تھی

ہم انا گیر بھی دیوار گِرا کر گئے تھے

زیرِلب جلتے ہوئے شکوے تھے کتنے لیکن

روبرو یار کے آواز بُجھا کر گئے تھے

ہم کو معلوم تھا کہ جنگ یہی آخری  ہے

وحشتِ رخت  سے دامن کو چُھڑا کر گئے تھے

ہم پہ تھی سہل ہوئی دار و رسن کی مشکل

اسمِ منصور کا تعویذ کرا کر گئے تھے


عقیل اختر

No comments:

Post a Comment