صلیب ساتھ لیے غم کی رات ساتھ لیے
بلا کی پیاس گزاری فرات ساتھ لیے
میں کیسی کیسی تمناؤں کا اسیر رہا
تمہارے نام کی فردِ نجات ساتھ لیے
اب آ گیا ہوں ترے پاس ہاتھ خالی ہیں
چلا تھا تیری طرف کائنات ساتھ لیے
وہ حسن تھا کہ رہا کنجِ عافیت میں کہیں
وہ عشق تھا جو چلا شش جہات ساتھ لیے
سرور جاوید
No comments:
Post a Comment