Tuesday, 2 August 2022

صلیب ساتھ لیے غم کی رات ساتھ لیے

 صلیب ساتھ لیے غم کی رات ساتھ لیے

بلا کی پیاس گزاری فرات ساتھ لیے

میں کیسی کیسی تمناؤں کا اسیر رہا

تمہارے نام کی فردِ نجات ساتھ لیے

اب آ گیا ہوں ترے پاس ہاتھ خالی ہیں

چلا تھا تیری طرف کائنات ساتھ لیے

وہ حسن تھا کہ رہا کنجِ عافیت میں کہیں

وہ عشق تھا جو چلا شش جہات ساتھ لیے


سرور جاوید

No comments:

Post a Comment