عارفانہ کلام منقبت بر مولا علی
جب شامل اسماء الحسنیٰ علی
کیسے آخر نہ پکاروں یا علی
فضل امامت کی ابتداء علی
نورِ ولایت کی انتہا علی
خطبۃ الوداع میں مولا علی
اور مولود خانۂ خدا علی
وہاں کسی اور رہبر کا کیا سوال
جہاں ہو موجود مرتضےٰ علی
خیبر میں اسلام کو مشکل پڑی
بن کے آ گیا مشکل کشا علی
کارزارِ اُحد کی فضاؤں سے
صدا آئی لا فتیٰ الا علی
مرحب کو نابود کیا تو بول اٹھے
جن و انس و ملک مرحبا علی
جس کی طاعت کا کتاب میں حکم ہے
دوران نماز دستِ سخا علی
ہاں ابو تراب کا مفہوم یہ ہے
یعنی نہ تھی ارض خاکی تھا علی
حضرت کی آرزو ہے غلامی تیری
روز محشر رد نہ کرنا یا علی
حضرت سرحدی
No comments:
Post a Comment