آندھی کا رنگ لال بڑی دیر تک رہا
مرنے کا احتمال بڑی دیر تک رہا
بارش کی ایک بوند کا گرنا تھا اور پھر
موسم میں اعتدال بڑی دیر تک رہا
میں جانتا تھا کہ وہ منظر نہیں رہے
میں پھر بھی ساہیوال بڑی دیر تک رہا
یادیں پھر اس دیار کی آئیں کچھ اس طرح
ہجرت کا یہ سال بڑی دیر تک رہا
اکثر لہو میں جھانکتے لمحوں میں افتخار
اس کی طرف خیال بڑی دیر تک رہا
افتخار شفیع
No comments:
Post a Comment