Tuesday, 2 August 2022

آندھی کا رنگ لال بڑی دیر تک رہا

 آندھی کا رنگ لال بڑی دیر تک رہا 

مرنے کا احتمال بڑی دیر تک رہا

بارش کی ایک بوند کا گرنا تھا اور پھر

موسم میں اعتدال بڑی دیر تک رہا 

میں جانتا تھا کہ وہ منظر نہیں رہے 

میں پھر بھی ساہیوال بڑی دیر تک رہا

یادیں پھر اس دیار کی آئیں کچھ اس طرح

ہجرت کا یہ سال بڑی دیر تک رہا 

اکثر لہو میں جھانکتے لمحوں میں افتخار

اس کی طرف خیال بڑی دیر تک رہا 


افتخار شفیع

No comments:

Post a Comment