شکایت یہ نہ تھی تو اور کرتے
گِلہ تم سے تو ہم ہر طور کرتے
سِتم سے کب تمہیں فُرصت ملی ہے
کہ تم ٹُوٹے دلوں پر غور کرتے
مبارک ہو تمہیں ترکِ تعلق
مگر پوری تو رسمِ جور کرتے
ہوا کے رُخ پہ سب ہی چل پڑے تھے
مگر یہ ہم بھلا کس طور کرتے
ذرا سا وہ انا کا مسئلہ تھا
کبھی اعجاز تم ہی غور کرتے
عزیز اعجاز
No comments:
Post a Comment