Saturday, 5 March 2022

ہو جائے جسے بھی شناسائی ترے در کی

 ہو جائے جسے بھی شناسائی تِرے در کی

کرتا ہےعمر بھر وہ گدائی ترے در کی

اب تو میں کسی طور بھٹک ہی نہیں سکتا

کافی ہے مجھے راہنمائی ترے در کی

ہاں خواب میں دیدار عطا ہو گیا جس کو

پھر چومنے اس کو صبا آئی ترے در کی

زخموں کی مرے مجھ کو نہیں کوئی پرواہ

ہے مجھ کو میسر مسیحائی ترے در کی

مجھ سا یہ گنہ گار مرا جو مدینے میں

پھر میرے خدا کو حیا آئی ترے در کی

قسمت پہ مجھے رشک ہے اپنی کہ شہزاد

مجھ کو بھا گٸی خوشنمائی ترے در کی


شہزاد ڈوگر

No comments:

Post a Comment