Saturday, 5 March 2022

دل یہ کرتا ہے آج میرا بھی

 دل یہ کرتا ہے آج میرا بھی

پوچھ لے وہ مزاج میرا بھی

ان کی دستار کے بچانے میں

گر گیا سر سے تاج میرا بھی

یوں تو نسخے ہزار تھے ان پر

تھا مرض لا علاج میرا بھی

آج دشمن ہے جان کا میری

تھا کبھی یہ سماج میرا بھی

مجھ پہ کرتے رہے حکومت وہ

خود پہ کب ہوگا راج میرا بھی


راجندر کلکل

No comments:

Post a Comment