Saturday, 5 March 2022

کسے خبر تھی کہ وہ بات کس سفر کی تھی

 کسے خبر تھی کہ وہ بات کس سفر کی تھی

ستار ہ داں نے ہتھیلی جو دیکھ کر کی تھی

میں اپنے خواب سمندر میں پھینک آئی مگر 

یہ ساحلوں کے قریں چیخ کس لہر کی تھی

شفق شفق سے اترتا رہا یقین کا لہو

بہت حسین نشانی یہ راہبر کی تھی


پروین راجہ

No comments:

Post a Comment