مِرے رہبر، مِرے صاحب! تِرے کردار پر شک ہے
تِرے سارے ٹھکانوں پر، در و دیوار پر شک ہے
تِرے وعدے، تِری باتیں، تِرے شب، روز دیکھے ہیں
کہ تیری بزم میں شامل تِرے ہر یار پر شک ہے
ضمیری بے ضمیری کی ازل سے جنگ جاری ہے
کسی کی جیت پر شک ہے، کسی کی ہار پر شک ہے
مقام و مرتبہ حاصل تجھے کیسے کہاں سے ہے
تِرا سر ہو سلامت بس، تِری دستار پر شک ہے
تِرے ہی عشق میں ہم بھی رہے ہیں مبتلا اکثر
مگر سچ ہے ہمیں بھی اب تِری گفتار پر شک ہے
ابھی ویسے نہیں ہوتے ہیں تیرے حسن کے چرچے
تِرے اِن ناز نخروں پر، تِرے رخسار پر شک ہے
یقیں کیسے کریں تجھ پر؟ تِرا لہجہ بتاتا ہے
تِرے انکار پر شک ہے، تِرے اقرار پر شک ہے
آغا نیاز مگسی
No comments:
Post a Comment