حیران ہوں کیا خاک کی تقدیر بنے گی
وہ چاک گھمائے گا تو تعمیر بنے گی
چل عشق کو مت مان ادھر دیکھ ذرا سا
میں شعر پڑھوں گا، تِری تصویر بنے گی
ہم خواب میں پہلے بھی جدا ہو چکے ہیں دوست
میں جان چکا تھا، یہی تعبیر بنے گی
اک لڑکی دھنک جیسی ابھی رنگِ سخن سے
میں ایسی بناؤں گا کہ دلگیر بنے گی
یہ محفلِ مجذوب ہے یاں جذب میں رہنا
یاں ہونٹ ہلاؤ گے تو تقصیر بنے گی
میرا تو سخن اب ہے حوالے تِرے سائیں
تو آپ بنائے گا تو توقیر بنے گی
امیر سخن
No comments:
Post a Comment