Sunday, 21 November 2021

ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہو

 ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہو

میرے لیے ذرا بھی ضروری نہیں کہ ہو

رہتا ہے ذہن و دل میں جو احساس کی طرح

اس کا کوئی پتا بھی ضروری نہیں کہ ہو

انسان سے ملو بھی تو انسان جان کر

ہر شخص دیوتا بھی ضروری نہیں کہ ہو

کس نے تمہیں زبان عطا کی؟ کہ آج تم

کہتے ہو جو خدا بھی ضروری نہیں کہ ہو

قائم عظیم اس کی رضا سے ہے زندگی

اس میں مِری رضا بھی ضروری نہیں کہ ہو


طاہر عظیم

No comments:

Post a Comment