Sunday, 21 November 2021

یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھا

 یہ شہر آفتوں سے تو خالی کوئی نہ تھا

جب ہم سخی ہوئے تو سوالی کوئی نہ تھا

لکھا ہے داستاں میں کہ؛ گلشن اجڑتے وقت

گلچیں بے شمار تھے، مالی کوئی نہ تھا

اس دشت میں مِرا ہی ہیولیٰ تھا ہر طرف

میں نے ہی شمعِ عشق جلا لی کوئی نہ تھا

جلسے اجڑ گئے تھے کسی خود فریب کے

خود ہی بجا رہا تھا وہ تالی کوئی نہ تھا

تابش ہر ایک دل میں شرارے تھے قہر کے

ہو پاس جس کے سوز بلالی کوئی نہ تھا


تابش کمال

No comments:

Post a Comment