Tuesday, 23 November 2021

اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میں

 اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میں

اپنی صورت دھندلائی ہے آنکھوں میں

آج چمن کا حال نہ پوچھو ہم نفسو

آج خزاں کی رُت آئی ہے آنکھوں میں

برسوں پہلے جس دریا میں اترا تھا

اب تک اس کی گہرائی ہے آنکھوں میں

ان باتوں پر مت جانا جو عام ہوئیں

دیکھو کتنی سچائی ہے آنکھوں میں

ان میں اب بھی حرفِ محبت بستا ہے

اسی لئے تو گہرائی ہے آنکھوں میں

ہاتھ پکڑ کر جس کا چلنا سیکھا ہے

اس کے نام کی بینائی ہے آنکھوں میں

دھوپ عظیم اب پھیلی ہے جو شدت سے

تو سائے کی رعنائی ہے آنکھوں میں


طاہر عظیم

No comments:

Post a Comment