Friday, 7 May 2021

بس مرے کہنے سے بڑا ہے تو

 بس مِرے کہنے سے بڑا ہے تُو

یار! کس درجہ گر چکا ہے تو

یوں نہ پہچان پاٸے گا مجھ کو

جن نگاہوں سے دیکھتا ہے تو

تجھ کو سچ بولنے کی عادت ہے

اور واپس بھی آ گیا ہے تو

جانے کیا کہہ دیا کسی نے تجھے

میری تعریف کر رہا ہے تو

اتنی جلدی بھی فیصلہ مت کر

ٹھیک ہے مجھ کو جانتا ہے تو

خاک میں مل کے بھی نہیں بدلا

جانے کس خاک سے بنا ہے تو

جل مِری کامیابیوں پر دوست

اور جتا یہ کہ خوش ہوا ہے تو


آفتاب نواب

No comments:

Post a Comment