Friday, 7 May 2021

اجنبی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

 اجنبی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

اور سبھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

جن میں کوئی کمی ہی نہیں تھی وہ دن

اک کمی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

آپ تک جانے والے سبھی راستے

داخلی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

شاعری پہلا الزام تھی ذات پر

پھر کئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

رنگ جتنے بھرے میں نے تصویر میں

سرمئی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

سرسری ایک کردار تھے ہم کبھی

مرکزی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

اور لوگوں کے جیسے کہاں آپ تھے

آپ بھی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

ان نگاہوں میں تھے جو ہزاروں سخن

اَن کہی ہو گئے دیکھتے دیکھتے

اُس کی صحبت میں گزرے ہوئے سارے پل

شاعری ہو گئے دیکھتے دیکھتے

ہم مہا شبد کا اولیں بھید تھے

روشنی ہو گئے دیکھتے دیکھتے


نینا عادل

No comments:

Post a Comment