دل کو دل کے روبرو کرتے ہیں ہم
’شاعری میں گفتگو کرتے ہیں ہم‘
چشمِ ساقی کو سبو کرتے ہیں ہم
میکدے کو سرخرو کرتے ہیں ہم
دامنِ دل تر کبھو کرتے ہیں ہم
آنسوؤں کی آبرو کرتے ہیں ہم
دل کے بتخانے سے گرتے ہیں صنم
خود کو جب بھی قبلہ رو کرتے ہیں ہم
لفظ میں رکھتے ہیں خوشبو کا ہنر
شاعری کو مُشکبو کرتے ہیں ہم
بولتے ہیں بد زبانوں سے کبھی
اپنے لہجے کو لہو کرتے ہیں ہم
کیوں نہیں ہوتی دعائیں اب قبول
خونِ دل سے کیا وضو کرتے ہیں ہم
اشرف عادل
No comments:
Post a Comment