Thursday, 10 June 2021

بے شک زخمی پاؤں ہیں تیرے

 اے ہوا


بے شک زخمی پاؤں ہیں تیرے

گَرد سے اَٹا ہُوا ہے چہرہ

لیکن پھر بھی تیرا ماتھا کبھی نہیں چُوموں گی

تُو نے اپنے پاؤں تلے کانٹوں کو روندا

ٹھیک کِیا

لیکن پُھولوں سے کیوں بھری جھولی

ان کو شاخوں پر ہی کِھلا رہنے دیتیں

تو کتنا اچھا ہوتا


ناہید قاسمی

No comments:

Post a Comment