Saturday, 5 September 2020

محبت کا جہاں ہے اور میں ہوں

محبت کا جہاں ہے اور میں ہوں
مِرا دار الاماں ہے اور میں ہوں
حیاتِ غم نشاں ہے اور میں ہوں
مسلسل امتحاں ہے اور میں ہوں
نگاہِ شوق ہے اور ان کے جلوے
شکستِ ناگہاں ہے اور میں ہوں
اسی کا نام ہو شاید محبت
کوئی بارِ گراں ہے اور میں ہوں
محبت بے سہارا تو نہیں ہے
مِرا دردِ نہاں ہے اور میں ہوں
محبت کے فسانے اللہ، اللہ
زمانے کی زباں ہے اور میں ہوں
قمر تقلید کا قائل نہیں میں
مِرا طرزِ بیاں ہے اور میں ہوں

قمر مرادآبادی

No comments:

Post a Comment