Saturday, 5 September 2020

منزلوں کے نشاں نہیں ملتے

منزلوں کے نشاں نہیں ملتے
تم اگر ناگہاں نہیں ملتے
آشیانے کا رنج کون کرے
چار تنکے کہاں نہیں ملتے
داستانیں ہزار ملتی ہیں
صاحبِ داستاں نہیں ملتے
یوں نہ ملنے کے سو بہانے ہیں
ملنے والے کہاں نہیں ملتے
انقلابِ جہاں ارے توبہ
ہم جہاں تھے، وہاں نہیں ملتے
دوستوں کی کمی نہیں ہمدم
ایسے دشمن کہاں نہیں ملتے
جن کو منزل سلام کرتی تھی
آج وہ کارواں نہیں ملتے
شاخِ گل پر جو جھومتے تھے قمر
آج وہ آشیاں نہیں ملتے

قمر مرادآبادی

No comments:

Post a Comment