وہ کون ہیں جو گلے سے لگائے رکھتے ہیں
سِرے سے ہیں ہی نہیں پھر بھی سائے رکھتے ہیں
بہار بن کے تمنا کھلائے رکھتے ہیں
خزاں مزاج بھی کیا ظرف ہائے رکھتے ہیں
وہ میری آگ کو رکھتے ہیں اپنے سِینے میں
ہم اپنے ساتھ ہی رکھتے ہیں اپنے صحرا کو
اور اپنے صحرا میں اک دل سرائے رکھتے ہیں
جو تجھ جُنوں نے بدن پر حکایتیں لکھیں
وہ خود سیاہ نظر سے چھپائے رکھتے ہیں
ہم اپنے قہقہے رنگتے ہیں اپنے داغوں سے
ہم اپنے درد کا چہرہ سجائے رکھتے ہیں
کبھی سراغ جو ملتا ہے تیری آنکھوں کا
تو بے خدائی کا غم بھی بھلائے رکھتے ہیں
نوشین قمبرانی
No comments:
Post a Comment