Friday, 4 September 2020

دیواریں دروازے دریچے گم سم ہیں

شکست

دیواریں، دروازے، دریچے گم سم ہیں
باتیں کرتے بولتے کمرے گم سم ہیں
ہنستی شور مچاتی گلیاں چپ چپ ہیں
روز چہکنے والی چڑیاں چپ چپ ہیں
پاس پڑوسی ملنے آنا بھول گئے
برتن آپس میں ٹکرانا بھول گئے
الماری نے آہیں بھرنا چھوڑ دیا
صندوقوں نے شکوے کرنا چھوڑ دیا
مٹھو "بی بی روٹی دو" کہتا ہی نہیں
سونی سیج پہ دل بس رہتا ہی نہیں
سنگر کی آواز کو کان ترستے ہیں
گھر میں جیسے سب گونگے ہی بستے ہیں
تم کیا بچھڑے سمے سہانے بیت گئے
لوٹ آؤ میں ہارا، لو تم جیت گئے

محمد علوی

No comments:

Post a Comment