ہمیشگی کے پرندوں کو رنگ بھائے نہیں
وہ سبز پانی پہ اڑ کر بھی مسکرائے نہیں
تمام ہوتی ہوئی راہ سے بلائے نہیں
ہوا سے کہہ دو مجھے نیند سے جگائے نہیں
لے اپنا دل مِرے داغوں کی چھاؤں سے بھر لے
سکون ربط سے خالی ہے، وجد سے وحشت
طلب کا جسم نہیں ہے نظر کے سائے نہیں
غم و گداز کی محرم ہے شاعری جیسے
اے تیرگی کوئی شب کا تِرے سوائے نہیں
شہید روشنی یہ کہہ گئی ہے لشکر سے
الاؤ درد کا رو رو کے یوں بجھائے نہیں
جنہیں بہ مثلِ گہر تھا نکھارنا مجھ کو
وہ سنگ تراش مِرے کوہ تلک آئے نہیں
نوشین قمبرانی
No comments:
Post a Comment