Friday, 4 September 2020

ہمیشگی کے پرندوں کو رنگ بھائے نہیں

ہمیشگی کے پرندوں کو رنگ بھائے نہیں
وہ سبز پانی پہ اڑ کر بھی مسکرائے نہیں
تمام ہوتی ہوئی راہ سے بلائے نہیں
ہوا سے کہہ دو مجھے نیند سے جگائے نہیں
لے اپنا دل مِرے داغوں کی چھاؤں سے بھر لے
پھر اس سے آگے شفق تک کوئی سرائے نہیں
سکون ربط سے خالی ہے، وجد سے وحشت
طلب کا جسم نہیں ہے نظر کے سائے نہیں
غم و گداز کی محرم ہے شاعری جیسے
اے تیرگی کوئی شب کا تِرے سوائے نہیں
شہید روشنی یہ کہہ گئی ہے لشکر سے
الاؤ درد کا رو رو کے یوں بجھائے نہیں
جنہیں بہ مثلِ گہر تھا نکھارنا مجھ کو
وہ سنگ تراش مِرے کوہ تلک آئے نہیں

نوشین قمبرانی

No comments:

Post a Comment