Friday, 4 September 2020

آواز کے ٹوٹے ہوئے پیکر سے گرا تھا

آواز کے ٹوٹے ہوئے پیکر سے گِرا تھا
وہ لفظ جو کٹ کر مِرے اندر سے گرا تھا 
سب پھول کھلے تھے تِرے ہونٹوں کی چھووّن سے 
ہر رنگ تِری آنکھ کے منظر سے گرا تھا 
ٹوٹا تھا ستارا بھی کوئی خواب میں آ کر 
جگنو بھی کوئی رات کی چادر سے گرا تھا
ہر عکس مِرا مجھ میں ہی ضم ہو گیا آ کر
میں آئینہ خانے میں برابر سے گرا تھا 
کیوں خاک میں تحلیل ہوا کس کو خبر ہو 
جھرنے کی طرح اشک تو پتھر سے گرا تھا 
سب پات فدا ہونے کو تیار تھے اس پر 
وہ رنگ جو شاخوں پہ گلِ تر سے گرا تھا 
     
نوید فدا ستی

No comments:

Post a Comment