Wednesday, 17 November 2021

خواب گر خواب بناتا ہی چلا جاتا ہے

 خواب گر خواب بناتا ہی چلا جاتا ہے

جس کو جو آئے سمجھ اس کو اٹھا لاتا ہے

رات بجھتی ہے تو جاگ اٹھتے ہیں وحشی منظر

دن اجڑتا ہے تو دل خوف پہ اکساتا ہے

تُو نے جلتے ہوئے منظر کو ہوا کیوں دی تھی

راکھ اب اڑنے لگی ہے تو کدھر جاتا ہے

یہ تِرے سوچے ہوئے رنگ کا محتاج نہیں

حسن تو حسن ہے ہر رنگ میں اِتراتا ہے

دیکھنے والے محبت کی نظر سے دیکھیں

میں وہ منظر ہوں جسے حسن نظر بھاتا ہے

اے معلم کی طرح عشق پڑھانے والے

عشق لیکچر سے نہیں کر کے سمجھ آتا ہے

ایک مشتاق نگاہی کی طلب میں شاہد

جس کو دیکھو وہی تصویر ہوا جاتا ہے


شاہد فیروز

No comments:

Post a Comment