Wednesday, 17 November 2021

شمع کی طرح پگھلتے رہئے

 شمع کی طرح پگھلتے رہئے

اپنی ہی آگ میں جلتے رہئے

آج انساں کا مقدر ہے یہی

ہر نئے سانچے میں ڈھلتے رہئے

زندہ رہنے کی تمنا ہے اگر

اپنا چہرہ بھی بدلتے رہئے

چھاؤں کی طرح بڑھا بھی کیجے

دھوپ کی طرح نہ ڈھلتے رہئے

زندگی کی ہے علامت لغزش

کیوں بہر گام سنبھلتے رہئے

کام لیجے نہ زباں سے اپنی

خاک بس چہرے پہ ملتے رہئے

ذہن بھی شل نہ کہیں ہو جائے

وقت زاروں سے نکلتے رہئے


علقمہ شبلی

No comments:

Post a Comment