فضا میں تیرتے رہتے ہو تم خبر کی طرح
میں اک کنارے پڑا ہوں شکسۃ پر کی طرح
چہل پہل نہیں کوئی نہ زندگی کا نشاں
مِرا وجود ہے تنہا اداس گر کی طرح
امیر شہر نے شک کی نگاہ سے دیکھا
غریب شہر ہے ہمراہ ہمسفر کی طرح
تو ایک منزل موہوم جستجو میں تِری
مِرا وجود ہے سنسان رہگزر کی طرح
ہر ایک لمحہ ہر اک پل بکھر رہا ہے وجود
خزاں کی دھوپ میں جھڑتے ہوئے شجر کی طرح
وہ ایک لفظ سراپا ہے رات کی صورت
ہم ایک معنئ بے پردہ ہیں سحرکی طرح
تمہیں کہو کہ تمہیں لوگ کیا کہیں گے شمیم
خبر کی دنیا میں رہتے ہو بے خبر کی طرح
شمیم ہاشمی
No comments:
Post a Comment