Wednesday, 17 November 2021

تری یادوں کی نقاشی کھرچ کر پھینک آئے ہیں

 تِری یادوں کی نقاشی کھرچ کر پھینک آئے ہیں

جھلستی ریت پر ہم اک سمندر پھینک آئے ہیں

عقیق و نیلم و لعل و جواہر پھینک آئے ہیں

سمندر میں عجب منظر شناور پھینک آئے ہیں

تِری یادیں تِری باتیں سبھی اوراق پارینہ

ہم اک اک کر کے سب دل سوز منظر پھینک آئے ہیں

تلاطم ہو کہ طوفاں ہو یہ دریا پار کرنا ہے

ہم اپنی کشتیاں موجوں کے اندر پھینک آئے ہیں


ندیم ماہر

No comments:

Post a Comment