دِیا وصال کا آخر بجھا دیا اس نے
غمِ فراق بطورِ جزا دیا اس نے
زمانے بھر میں تماشا بنا دیا اس نے
مِری وفاؤں کا اچھا صِلہ دیا اس نے
جو لکھ کے نام ہمارا مٹا دیا اس نے
بنا کے ہم کو دِوانہ بھلا دیا اس نے
نقاب رخ سے جب اپنے ہٹا دیا اس نے
مزید درد ہمارا بڑھا دیا اس نے
اب اپنے ہونے سے بھی ہو رہی ہے الجھن سی
یہ روگ ہجر کا کیسا لگا دیا اس نے
وسیم بھیجا نہ ظالم نے خالی ہاتھ کبھی
دے سکتا تھا جو بھی وہ باخدا دیا اس نے
وسیم اکرم جوئیہ
No comments:
Post a Comment