کی تُو نے لب کشائی تو کس کے حضور کی
اب کرچیاں سمیٹ دلِ ناصبور کی
کس کے لہو میں شام نہا کر ہے سرخرو
کس نے چکائی خون سے قیمت غرور کی
صدیوں سے کس کی قبر پہ گریہ کناں ہے رات
لیٹا ہے کون اوڑھ کے چادر یہ نور کی
علم و کمال آپ کی میراث کیا کہا
پرتیں نہ کھولیے میرے تحت الشعور کی
تقدیر جتنا چاہے مجھے در بہ در کرے
مٹی سے خو نہ جائے گی برہان پور کی
پھر با ادب ہیں لفظ و معانی مِرے حضور
پھر فوج اتر رہی ہے خیالِ طیور کی
ہم خود سے ہم کلام ہوئے کم نہیں ندیم
جاویں کلیم سیر کریں کوہِ طور کی
ندیم فاضلی
No comments:
Post a Comment