Tuesday, 4 January 2022

میں کیوں کہوں کہ مجھے بے امان چھوڑ گیا

 میں کیوں کہوں کہ مجھے بے امان چھوڑ گیا 

وہ اپنی یادوں کا اک سائبان چھوڑ گیا 

تمام عمر اب اس کے بغیر جینا ہے 

میرے لیے وہ عجب امتحان چھوڑ گیا 

میں گفتگو کے تکلف سے بچ گیا آخر

وہ بے زبان مجھے بے زبان چھوڑ گیا

اب اس کے جانے کا کیونکر ملال کرتا رہوں

کریہ دار تھا،۔ آخر مکان چھوڑ گیا

وہ اک شخص جو بچھڑا تو یوں لگا راقب

کہ جیسے مجھ کو میرا خاندان چھوڑ گیا


امیر عباس راقب

No comments:

Post a Comment