میں کیوں کہوں کہ مجھے بے امان چھوڑ گیا
وہ اپنی یادوں کا اک سائبان چھوڑ گیا
تمام عمر اب اس کے بغیر جینا ہے
میرے لیے وہ عجب امتحان چھوڑ گیا
میں گفتگو کے تکلف سے بچ گیا آخر
وہ بے زبان مجھے بے زبان چھوڑ گیا
اب اس کے جانے کا کیونکر ملال کرتا رہوں
کریہ دار تھا،۔ آخر مکان چھوڑ گیا
وہ اک شخص جو بچھڑا تو یوں لگا راقب
کہ جیسے مجھ کو میرا خاندان چھوڑ گیا
امیر عباس راقب
No comments:
Post a Comment