تسخیر ہے کرنا اسے اب دستِ ہنر سے
لکھ کر کبھی ڈرنا نہیں اندھیر نگر سے
یہ شہر کہ وہ شہر جو روشن تھا ہمیشہ
یاں خوف کوئی تھا نہ بشر ہی کو بشر سے
بس موسمِ ہجراں ہی یہاں آ کے رکا ہے
وابستہ مگر وصل کی یادیں ہیں شجر سے
اس گھر سے مِرا ربط اگر باقی نہیں ہے
رشتہ تو ہے گہرا مِرا اپنوں کے نگر سے
ایسا ہے گرفتار محبت کا مِری وہ
دیوانہ سا ہو جائے مِری ایک نظر سے
رقصاں تھے تِری یاد کے سائے تو ہوا یوں
ہر لفظ ڈھلا شعر میں یادوں کے اثر سے
صحرا سے کوئی تشنگی آب تو پوچھے
گرزے کئی بادل ہیں یہاں سے بِنا برسے
دل ایسی حویلی کہ ہیں تاریک دریچے
آہٹ نہیں آتی کسی دیوار نہ در سے
تجھ ایسے بُتوں سے کیا حنا کوئی توقع
ہر روز دعا مانگی ہے، تا ثیر کو ترسے
حنا امبرین طارق
No comments:
Post a Comment