Tuesday, 4 January 2022

وہ جتنا مجھے آزماتا رہے گا

 وہ جتنا مجھے آزماتا رہے گا

یقیں میرا اتنا گنواتا رہے گا

کبھی پوچھ لے تو رضا اس کے من کی

کہاں تک تو اپنی چلاتا رہے گا

یہ حیوانیت جرم کرتی رہے گی

شرافت پہ الزام آتا رہے گا

زمانہ ہے بہرا بچے کیسے عزت

کوئی شور کب تک مچاتا رہے گا

زمانہ ہوا خود میں چالاک اتنا

تُو جب تک ڈرے گا ڈراتا رہے گا

رہے گی محبت جواں میرے دل میں

تِرا درد جب تک ستاتا رہے گا

غموں کو بھی ہنس کر وہ جی لے گا کلکل

خدا کو جو برتر بتاتا رہے گا


راجندر کلکل

No comments:

Post a Comment