عجیب وحشت میں مبتلا ہوں خبر نہیں ہے
میں جی رہا ہوں یا مر چکا ہوں خبر نہیں ہے
خبر نہیں ہے کہ کون ہوں اور کہاں پہ ہوں میں
میں رو رہا ہوں کہ ہنس رہا ہوں خبر نہیں ہے
خبر نہیں ہے کہ پڑھ رہے ہو یا سن رہے ہو
کوئی کہانی ہوں یا صدا ہوں خبر نہیں ہے
یہی تو معراج بے خودی ہے زمانے والو
عجیب ہے کہ میں لٹ گیا ہوں خبر نہیں ہے
خبر نہیں اس مقامِ حیرت کا کیا بنے گا
میں خود کو حیرت سے دیکھتا ہوں خبر نہیں ہے
بجھا ہوں راقب یا پھر بجھانے کا مرتکب ہوں
ہوا کا جھونکا ہوں، یا دِیا ہوں خبر نہیں ہے
امیر عباس راقب
No comments:
Post a Comment