Monday, 3 January 2022

خاک کے پتلوں میں پتھر کے بدن کو واسطا

 خاک کے پتلوں میں پتھر کے بدن کو واسطا

اس صنم خانے میں ساری عمر مجھ سے ہی پڑا

جب سفر کی دھوپ میں مرجھا کے ہم دو پل رکے

ایک تنہا پیڑ🌳 تھا میری طرح جلتا ہوا

جنگلوں میں گھومتے پھرتے ہیں شہروں کے فقیہ

کیا درختوں سے بھی چھن جائے گا عالم وجد کا

نرم رو پانی میں پہروں ٹکٹکی باندھے ہوئے

ایک چہرہ دیکھتا تھا بولتا سا آئینہ

یہ سیاہی خون میں اک روز مل جائے گی جب

چودھویں کا چاند کمرے میں اتر آئے تو کیا


وہاب دانش

No comments:

Post a Comment