گھر بار کا میں بوجھ اٹھاتے ہوئے چلی
کاندھے سے کاندھا سب کے ملاتے ہوئے چلی
ماں ہوں، بہن ہوں، بیٹی، شریکِ حیات ہوں
رشتوں کے سب تقاضے نبھاتے ہوئی چلی
ہر شخص کی نگاہ کا تھا زاویہ جدا
آنکھوں سے سب کی آنکھ ملاتے ہوئے چلی
چلنا مِرا مزاج ہے رکنا نہیں پسند
اپنے لیے میں راہ بناتے ہوئے چلی
امرینہ میرا نام ہے سادہ ہوں اس قدر
سب دوستوں کے ناز اٹھاتے ہوئے چلی
امرینہ قیصر
No comments:
Post a Comment