Monday, 3 January 2022

گھر بار کا میں بوجھ اٹھاتے ہوئے چلی

 گھر بار کا میں بوجھ اٹھاتے ہوئے چلی

کاندھے سے کاندھا سب کے ملاتے ہوئے چلی

ماں ہوں، بہن ہوں، بیٹی، شریکِ حیات ہوں

رشتوں کے سب تقاضے نبھاتے ہوئی چلی

ہر شخص کی نگاہ کا تھا زاویہ جدا

آنکھوں سے سب کی آنکھ ملاتے ہوئے چلی

چلنا مِرا مزاج ہے رکنا نہیں پسند

اپنے لیے میں راہ بناتے ہوئے چلی

امرینہ میرا نام ہے سادہ ہوں اس قدر

سب دوستوں کے ناز اٹھاتے ہوئے چلی


امرینہ قیصر

No comments:

Post a Comment